اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مہدویت کےاستاد حجة الاسلام والمسلمین خدامراد سلیمیان نےاپنی کتاب﴿حضرت مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلابی میں لوگوں کا کردار﴾ میں لکھا ہے کہ بعض روایات میں ظہوراورقیام کو ایک معنی میں استعمال کیا گیا ہےاوریہی چیز سبب بنی ہے کہ کچھ افراد نے ان دونوں الفاظ کو ایک معنی میں استعمال کیا ہے۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہورقیام سےمختلف ہوسکتا ہے۔ قیام ظہورکے بعد کا مرحلہ ہوگا۔ اس بارے میں مندرجہ ذیل روایات ہیں:
ظہور کے بعد قیام
محمد بن یعقوب کلینی نےامام صادق علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان﴿ فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ کے بارے میں ایک روایت نقل کی ہےکہ﴿إِنَّ مِنَّا إِمَاماً مُظَفَّراً مُسْتَتِراً فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ ذِكْرُهُ إِظْهَارَ أَمْرِهِ نَكَتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةً فَظَهَرَ فَقَامَ بِأَمْرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَي﴾۔ اس روایت میں ﴿فقام﴾ کا لفظ آیا ہے کہ جس سے یہ مطلب سمجھا جاسکتا ہےکہ قیام ظہور کے بعد ہے۔ شیخ صدوق نے امام جواد علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے کہ جس میں امام علیہ السلام نے امام مہدی علیہ السلام کے لیےمخصوص اصحاب کے مہیا ہونےکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ﴿فَإِذَا اجْتَمَعَتْ لَهُ هَذِهِ الْعِدَّةُ مِنْ أَهْلِ الْإِخْلَاصِ أَظْهَرَ اللَّهُ أَمْرَهُ فَإِذَا كَمَلَ لَهُ الْعَقْدُ وَ هُوَ عَشَرَةُ آلَافِ رَجُلٍ خَرَجَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ؛ ﴾ یہ بات واضح ہے کہ﴿اظہارامر﴾ اور﴿خروج﴾ دو مختلف چیزیں ہیں۔ پہلے لفظ سے مراد ظہورہے اوردوسرے لفظ سے مراد قیام اورخروج ہے۔
ایک اورروایت میں انتہائی واضح طور پراس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شیخ صدوق نے لکھا ہے کہ محمد بن مسلم نےامام باقرعلیہ السلام سے سنا ہےکہ آپ نے فرمایا:ندإِذَا خَرَجَ أَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَي الْكَعْبَةِ وَ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا وَ أَوَّلُ مَا يَنْطِقُ بِهِ هَذِهِ الْآيَةُ: بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا بَقِيَّةُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَ خَلِيفَتُهُ وَ حُجَّتُهُ عَلَيْكُمْ فَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ مُسَلِّمٌ إِلَّا قَالَ :السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا بَقِيَّةَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ. فَإِذَا اجْتَمَعَ إِلَيْهِ الْعِقْدُ وَ هُوَ عَشَرَةُ آلَافِ رَجُلٍ خَرَجَ فَلَا يَبْقَي فِي الْأَرْضِ مَعْبُودٌ دُونَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ... ﴾ اس وقت ہمارے قائم خروج کریں اورجب وہ ظہور کریں گے تو وہ خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائیں گے اورتین سوتیرہ افراد ان کے گرد جمع ہوں گے اوران کی پہلی بات قرآن کریم کی یہ آیت ہے۔ ﴿بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾۔ اس کے بعد فرمائیں گےکہ میں زمین پربقیة اللہ ہوں اور میں ہی اللہ کا خلیفہ اورتم پرحجت ہوں۔ اس روایت میں بھی دو خروج کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ جن میں سے ایک کو ظہوراوردوسرے کو قیام کا نام دیا جاسکتا ہے۔
.....
/169